فہمِ دین، تزکیہء نفس، توبہ اور آنسوؤں کی بستی   
 I`tikaf City www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184
    Home  |  Diary  |  Speeches  |  Articles  |  Album  |  Contact www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184 
www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184

 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Home
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Itikaf City
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   I`tikaf Speeches
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   I`tikaf Diary
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Itikaf Schedule
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Itikaf Booklet
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Nisab-e-Itikaf
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Ahadith
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Articles
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Documentary
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Photo Album
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Maps & Routs
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Write-a-Review
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Contact


Please donate generously
so we may improve
our services.
Our efforts
depend on you.

www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184
www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184
I`tikaf City - اجتماعی مسنون اعتکاف 2003ء
اجتماعی مسنون اعتکاف 2003ء

فہم دین، تزکیہ نفس، توبہ اور آنسوؤں کی بستی کا آنکھوں دیکھا حال


تحریر: ایم ایس پاکستانی (دی منہاج یونیورسٹی، لاہور)

’’وہ شخص مجھ سے بحث ومباحثہ میں مصروف تھا جبکہ میں اسے اعتکاف پر قائل کرنے کے ساتھ ساتھ اجتماعی اعتکاف کے فوائد بتارہا تھا۔ وہ مجھے علاقے کی مسجد میں گوشہ تنہائی میں اعتکاف بیٹھنے کا کہہ رہا تھا۔ لیکن میرا اصرار تھا کہ اس دفعہ اجتماعی اعتکاف میں شرکت کروں۔ کیوں؟ اس کا جواب تو آگے آئے گا لیکن ہماری اعتکاف کے مسئلہ پر ہونے والی یہ شرعی بحث شدت اختیار کررہی تھی۔ قریب تھا کہ وہ شخص مجھ سے الجھ پڑتا اور لڑ پڑتا۔ میں نے اسے بڑے پیار بھرے انداز میں ایک جملہ کہا کہ ’’دوست میرے کہنے پر ایک بار وہاں جاکر تو دیکھو‘‘ بس پھر کیا تھا اس کی خاموشی نے مجھے رضا مندی کا عندیہ دیا۔ لہذا اس قریبی دوست کا میں نے محلہ کی مسجد سے سازو سامان اور بستر اٹھایا اور اپنی گاڑی میں رکھدیا اور اسے اس کے آبائی گھر سے دور جامع المنہاج کی اعتکاف گاہ میں لے آیا‘‘۔

میں اپنے دوست حیدر علی کو بالآخر اپنی رائے پر قائل کر کے لے ہی آیا۔ ہم جامع المنہاج کے مرکزی گیٹ پر پہنچے تو معتکفین حضرات کی باقاعدہ رجسٹریشن کا کام جاری تھا۔ یہ 20رمضان المبارک کی دوپہر کا واقعہ تھا میرا دوست جامع المنہاج آکر حیران ششدر تھا کہ یہ لوگوں کا جم غفیر یہ عامۃ الناس کا انبوہ کثیر، بالآخر کہاں سے ٹپک پڑا ہے۔ اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ان لوگوں کے گھروں کے قریب مقامی مساجد میں اعتکاف کی سہولت موجود نہیں؟ میں نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ رجسٹریشن کے انتظار میں، میں چپکے چپکے اپنے دوست کی آنکھوں کو پڑنے کی کوشش بھی کررہا تھا اور یہاں آکر اس کے احساسات کو جاننے میں مصروف تھا۔ وہ لوگوں کے بڑے ہجوم میں دور دراز، ملک بھر اور بیرون ملک سے آئے معتکفین کی طرف حیرانگی سے تک رہا تھا۔ جن کے ماتھوں پر ایک عجیب سا جنوں نظر آرہا تھا، جن کی آنکھوں میں ایک انتظار کی سی کیفیت موجود تھی۔ جیسے وہ حوادثِ عالم کی خزاں کے مارے ہوئے ہوں اور کسی موسم روحانیت کی بہار کے منتظر ہوں۔ جن کے کیف و اضطراب اور جذبہ لگن سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ یہاں کسی خاص مقصد کے تحت آئے ہیں۔ جو دنیا و مافیہا کے گھبرائے ہوئے اور زمانے کی ٹھوکروں کے مارے ہوئے نظر آرہے تھے۔ میں نے اپنے دوست کے چہرے پر بھی اطمینان کے سائے امڈتے دیکھے اور ابھی ہم جامع المنہاج کی اعتکاف گاہ میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ ہزاروں کی تعداد میں معتکفین کے ہجوم کو دیکھ کر ہی وہ سب اعتراضات اور تنہا اعتکاف کے موقف کو بھول ہی گیا۔ اب اس کا جذبہ بھی کچھ اس طرح کا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر یہ لوگ یہاں ہی کیوں یہاں آئے؟؟؟

دنیا کے دوسرے بڑے اعتکاف پر طائرانہ نظر

’’تحریک منہاج کی نظامت اجتماعات ملک بھر میں بڑے بڑے روحانی و مذہبی اجتماعات کا انعقاد کرتی آرہی ہے اس لحاظ سے اجتماعی شہر اعتکاف تحریک کے اہم سالانہ اجتماعات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل گذشتہ 12سال سے جامع المنہاج میں اجتماعی مسنون اعتکاف کا انعقاد ہورہا ہے اور یہ تیرہواں سالانہ مسنون اعتکاف تھا‘‘۔ یہ ابتدائی معلومات میں اسے دے رہا تھا۔ رجسٹریشن کارڈ ملتے ہی میں نے اسے شہر اعتکاف کے روحانی ماحول کے حوالے کردیا اور بجائے اسے اعتکاف گاہ کے انتظامات بارے کچھ بتانے اسے سب کچھ خود ہی اپنی نظروں سے معلوم کرنے کی دعوت دے کر خاموش ہوگیا۔ وہ جامع المنہاج کے وسیع و عریض رقبے کو جسے خوبصورت ٹینٹوں سے سجایا گیا تھا، جہاں ہر جگہ پر خوبصورت و نرم ملائم قالین بچھائے گئے تھے، جہاں ہزاروں افراد کی گنجائش کے پیش نظر بہت وسیع مسجد موجود تھی جو خوبصورت فن تعمیر سے اکیسویں صدی کے حسین وجمال فن تعمیر کے نمونے کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کے اندر خوبصورت بینرز پر روحانی و مذہبی ذوق کے پیش نظر قائد انقلاب کے اقوال تحریر تھے کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور بالآخر اس نے مزید دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے اعتکاف گاہ کے انتظامات بارے گفتگو شروع کردی اور میں اسے بتانے لگا کہ انتظامی طور پر اس شہر اعتکاف میں ہزاروں نفوس کو رہائشی لحاظ سے کنٹرول کرنے کے لئے اندرون ملک اور بیرون ملک سمیت 5زونوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ملک بھر سے آئے ہزاروں افراد کو 4 زونوں میں رکھا گیا جن کی تقسیم B-1 تا B-4 ہے جبکہ ان میں آگے معتکفین کے علاقائی تقسیم پر حلقہ جات سینکڑوں کی تعداد میں الگ الگ ہیں۔ زون 5 میں بیرون ملک سے آئے ہوئے سینکڑوں افراد کو رکھا گیا ہے جبکہ منہاج گرلز کالج میں ملک بھر سے آئی ہوئیں خواتین کو رکھا گیا ہے۔ اس طرح دنیا بھر سے آئے ہوئے مرد و خواتین کو ملا کر حرمین شریفین کے بعد یہ دنیا کا سب سے بڑا اجتماعی اعتکاف ہے۔

اعتکاف کا انتظامی ڈھانچہ

اس شہر اعتکاف میں پوری دنیا سے آئے ہوئے ہزاروں افراد کے قیام و طعام اور دیگر انتظامی امور کو کنٹرول کرنے کے لئے مرکزی سطح پر کل 19کمیٹیاں بنائیں گئی ہیں جن کو انتظامی، تربیتی اور متفرق امور میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انتظامی امور میں 5کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں۔ ان میں انتظامی کمیٹی، الیکٹر سٹی کمیٹی، طعام کمیٹی، کمیٹی برائے ڈیکوریشن اور ٹرانسپورٹ کمیٹی شامل ہے۔ اس طرح تربیتی امور کی نگرانی اور کنٹرول کے لئے جو 6کمیٹیاں بنائی گئی ہیں ان میں تربیتی کمیٹی، کمیٹی برائے انعقاد حلقہ جات، کمیٹی برائے نگرانی معمولات، کمیٹی برائے تنظیمی تربیت، کمیٹی برائے محافل ذکر ونعت اور کمیٹی برائے اعلان و اذان شامل ہیں۔

مزید یہ کہ اور متفرق امور کی دیکھ بھال کے لئے جو 8کمیٹیاں بنی ہیں ان میں فنانس کمیٹی، تشہیر کمیٹی، میڈیا کمیٹی، میڈیکل ایڈ کمیٹی، کمیٹی برائے ریکارڈنگ، انٹرنیٹ بیورو کمیٹی، فارن کمیٹی اور VIP شخصیات کی شرکت کی کمیٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیکر ان کو فعال بنانے کے لئے مرکزی سطح پر سب سے بڑی جو کمیٹی بنائی گئی ہے وہ مرکزی کمیٹی ہے جس میں ایک نگران، سربراہ اور سیکرٹری کے علاوہ 25ممبران شامل ہیں۔ دیگر کمیٹیوں کے ممبران کی کل تعداد 80 ہے۔ جن کو سربراہ، سیکرٹری اور ممبران کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان ذیلی کمیٹیوں کی تعداد مختلف ہے۔ انتظامی امور کی کمیٹیوں کے ارکان کی تعداد 12، تربیتی امور کے ارکان 37اور متفرق امور کی مختلف کمیٹیوں میں 31افراد شامل ہیں۔ یہ تفصیلات بیان کرتے ہوئے میں اپنے دوست کو اس کے کیمپ تک لے آیا۔

قائد محترم کے روح پرور دروس قرآن و تصوف

20رمضان المبارک کی شب 10بجے اس وقت سب لوگوں کا شوق دیدنی تھا جب قائد تحریک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے نماز تراویح کے بعد ہزاروں معتکفین سے تعارفی و ابتدائی خطاب کیا۔ میرا دوست بھی اس گفتگو کو بڑے انہماک سے سن رہا تھا۔ ابتدائی خطاب میں انہوں نے ملک و بیرون ممالک سے آنے والے ہزاروں افراد کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ وہ تمام لوگ جو اپنا گھر بار چھوڑ کر خالصتاً ’’لوجہ للہ‘‘ خدا کی راہ میں 10دنوں کے لئے نکلے ہیں۔ وہ اس اعتکاف میں خصوصی طور پر ’’نسبت محمدی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘کو پختہ کریں گے۔ امسال قائد محترم نے تمام معتکفین کو نسبت محمدی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پختگی کا درس دیتے ہوئے شہر اعتکاف کے ہر معتکف کو وظائف کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی۔ انہوں نے تاکیداً یہ بات دہرائی کہ تمام سالکین حق اپنے دس روزہ مسنون اعتکاف میں ’’نسبت محمدی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ کے حصول و پختگی کے لئے خصوصی وظائف کا عمل مکمل کریں۔

انقلاب کب آئے گا؟

قائد انقلاب نے 21رمضان المبارک کو دوپہر کا تاریخی درس قرآن دیتے ہوئے سورۃ توبہ کی روشنی میں ’’انقلاب کب آئے گا‘‘ کے موضوع پر ایک فکر انگیز اور روح پرور خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے تحریکی کارکنان، عامۃ الناس دین حق کی خاطر معمولی سے معمولی قربانی دینے کو تیار نہیں لیکن وہ پوچھتے ہیں کہ انقلاب کب آئے گا؟ انہوں نے اجتماعی طور پر پاکستانی قوم کا ضمیر جھنجھوڑتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہم اجتماعی مفاد کے لئے ذاتی مفاد کو قربان کرنے کو تو تیار نہیں اور بات انقلاب کی کرتے ہیں۔ تحریکی ساتھیوں کا انہوں نے بالخصوص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرانے تحریکی ساتھی عرصہ دراز سے ادارہ کے ڈیفالٹرز ہیں اور فیلڈ میں وہ ’’جوانیاں لٹائیں گے انقلاب لائیں گے‘‘ کے نعروں سے میرے انقلاب کو شرمندہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب خود کو انقلاب کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار کرلیں انقلاب خود بخود آجائے گا۔ لہذا وہ لوگ جو خالی نعرے لگاکر انقلاب کی آمد کے منتظر ہیں وہ یہ بھول جائیں کہ مصطفوی انقلاب نعروں کا محتاج ہے۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ بلکہ مصطفوی انقلاب تو ایک عظیم تبدیلی کا نام ہے جو کہ عملی محنت، جدوجہد اور قربانیاں مانگتی ہے۔

انہی راستوں پر چل کے آسکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

بعد ازاں میرا دوست مجھے اس خطاب بارے اپنے مثبت تاثرات بیان کرتے ہوئے گویا ہوا کہ واقعتاً اس اعتکاف کی پہلی اور دوسری نشست نے مجھے بھی اپنے طرز عمل پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

دروس تصوف

درسِ قرآن کے ساتھ ساتھ دروس تصوف میں بھی قائد محترم نے اس بات پر زور دیا کہ اولیاء اللہ اور صلحاء کی صحبت سے ہی دین کو تقویت ملی۔ فجر کے بعد ہر روز دروس تصوف میں ایک پر کیف روح پرور روحانی ماحول ہوتا تھا جب ستارہ فجر آہستہ آہستہ طلوع ہوکر آسمان دنیا میں طلوع صبح کی نوید لیکر آتا تھا تو قائد محترم پرکیف بہاروں میں قدوۃ الاولیاء کے روحانی سایہ اور فیوضات تلے اپنا درس تصوف دے رہے ہوتے تھے۔ اجتماعی طور پر درس تصوف میں انہوں نے انسان کے اندر کی سستی، باطنی کاہلی اور روحانی کمزوری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہم روح کے تقاضوں کو پورا نہیں کررہے اور باطنی طور پر نفس کے غلبہ تلے روحانی وقلبی سستی کا شکار ہیں۔ اس کمی کو دور کرنے کے لئے انہوں نے بالخصوص ’’نسبت محمدی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ کو پختہ کرنے کے لئے وظائف پر زور دیا۔

جمعۃ الوداع کا تاریخی خطاب

25رمضان المبارک کو جمعۃ الوداع کی پرنور اور مقدس و بابرکت ساعتیں تھیں۔ جس میں جامع المنہاج کا ماحول اور بھی روح پرور، پرنور اور موسم روحانیت سے لبریز تھا۔ آج صبح 11بجے ہی ہزاروں کی تعداد میں معتکفین اور اہل علاقہ جامع المنہاج کے صحن میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ خطاب حسب معمول 1بجے شروع ہوا لیکن جامع المنہاج کے اطراف واکناف میں معتکفین کے ساتھ اہلیان لاہور کا ایک تاریخی جم غفیر تھا اور 12بجے تک جامع المنہاج کے اندر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔

جمعۃ الوداع کا تاریخی خطاب سننے کے لئے اہلیان لاہور کے ہمراہ ملک بھر سے ہزاروں نفوس جامع المنہاج پہنچ چکے تھے۔ علاوہ ازیں کیبل نیٹ ورک پر لاہور کی سطح پر یہ پروگرام Live جبکہ بیرون ممالک فرانس، اٹلی، ڈنمارک، بیلجیئم، UK، لندن، ہالینڈ، امریکہ اور دیگر ممالک میں ریڈیو نشریات کے ذریعے جمعۃ الوداع کا خطاب دنیا بھر میں نشر کیا گیا۔ میرا دوست خطاب کو سننے کے لئے 11بجے سے ہی قائد محترم کی نشست کے قریب براجمان ہوچکا تھا۔ جمعۃ الوداع کا خطاب نماز جمعہ کے بعد 2بجے شروع ہوا اور 4بجے ختم ہوا۔ جمعۃ الوداع میں قائد انقلاب نے محبت کے موضوع پر جو ارشادات فرمائے اور اکابرین عشق کی وضع کردہ تعریفوں کی روشنی میں انہوں نے محبت کا مفہوم واضح کیا۔ انہوں نے امام ابوالقاسم القشیری، ابویزیدبسطامی، سہل بن عبداللہ، جنید بغدادی، الشیخ ابوبکر شبلی، الشیخ ابوعلی دقائق، الشیخ یحیٰی بن معاذ، الشیخ ابویعقوب صوفی، الشیخ حسین بن منصور حلاج اور الشیخ محمد بن فضل کے اقوال کی روشنی میں محبت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ محبت سے مراد وہ عمل ہے کہ جس میں بندہ اپنی ذات کو محبوب کی ذات میں گم کردے۔

لیلۃ القدر، آنسوؤں کی بستی میں گریہ و زاری و مناجات کی رات

بالآخر وہ گھڑیاں بھی آگئیں جس میں اہلیان پاکستان قافلہ در قافلہ شریک ہونے کے لئے ہر سال ملک کے طول و عرض سے عازم لاہور ہوتے ہیں۔ شب قدر، لیلۃ القدر کی رات درحقیقت آنسوؤں کی بستی میں آنسو بہانے کی رات تھی جس میں تحریک منہاج القرآن ہر سال اس تاریخی اجتماع کو جامع المنہاج کے ساتھ متصلہ گراؤنڈ میں منعقد کرتی ہے۔ اس بار بھی تمام انتظامات ایک دن قبل مکمل ہوگئے۔ سٹیج سج گیا، اہلیان پاکستان شب قدر کی تلاش میں کسی روح پرور نظارے کے انتظار میں تھے کہ وہ شمع محفل رات کی گہری ساعتوں میں، توبہ و استغفار اور گریہ و آہ زاری اور محبت کے قصے سنانے کے لئے تشریف لائے تو آنسوؤں کی بستی میں چار چاند لگ گئے۔

ستائیسویں کے بین الاقوامی اجتماع میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس عالمی اجتماع میں منہاج انٹرنیٹ بیورو کے ذریعے دنیا بھر میں موجو د تحریک منہاج القرآن کے مراکز پر موجود ہزاروں افراد بھی انٹرنیٹ کے ذریعے اس پروگرام کو Liveسماعت کررہے تھے۔ اس مرتبہ قائد انقلاب نے صلوۃ التسبیح کی امامت خود فرمائی اس دوران حاضرین کی چیخ و پکار و گریہ و زاری کا عالم دیدنی تھا۔ بعد ازاں قائد محترم نے حضرت آدم و حوا علیھما السلام کے واقعہ ہبوت کو اپنے خطاب کا موضوع بناتے ہوئے فرمایا کہ یہ واقعہ، واقعہ خطا نہیں بلکہ واقعہ محبت و عشق اور واقعہ ادا ہے۔ آدم و حوا علیھما السلام نے اللہ کے دیدار کے لئے انقطاع نفسانیت و بقاء مع اللہ کے حصول کی خاطر ممنون درخت کے پھل کو کھالیا۔

قائد محترم نے دوران خطاب فرمایا کہ متقین کے لئے ’’غیر‘‘ دنیا ہے اور طلب جنت ہے۔ عارفین کے لئے ’’غیر‘‘ جنت ہے اور طلب دیدار الہیٰ ہے جبکہ محبین کے لئے دیدار الہٰی کی طلب کی خواہش کرنا بھی ’’غیر‘‘ ہے۔

آخر میں توبہ و استغفار کی گھڑیوں میں ایک درد ناک، رقت انگیز، آنسوؤں بھری، دعا مغفرت کروائی جس میں ہر شخص رو رو کر خدا سے مناجات اور دعائے مغفرت کررہا تھا ہر کوئی اپنے گناہ معاف کروارہا تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔ الغرض آنسوؤں کی برسات میں 27ویں کا عظیم الشان اجتماع سحری کے وقت اختتام سے ایک گھنٹہ قبل اپنے اختتام کو پہنچا۔

بعد ازاں میرا دوست مجھ سے ملا اور کہا کہ واقعتاً اجتماعی اعتکاف اصلاحِ احوال اور من کی دنیاکی تاریکیوں کو روشنی میں بدلنے کے لئے آج کے اس پرفتن دور میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔

شہر اعتکاف میں منہاج یونیورسٹی کا کردار

ہر بار شہر اعتکاف کے معمولات، ذکر اذکار اور تمام ٹائم ٹیبل کو بہتر تر کرنے کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ اس میں تحریک منہاج القرآن کے ہرفورم کی نمائندگی الگ الگ ہوتی ہیں لیکن منہاج یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء کا ’’منہاجینز‘‘ کے روپ میں بڑا اہم رول رہا ہے۔ منہاج یونیورسٹی کے طلباء تربیتی حلقہ جات میں ہزاروں معتکفین کو لیکچرز دیتے اور ان کی تربیت کرتے ہیں جبکہ مرکزی کمیٹی سے لیکر ہر سطح تک منہاج یونیورسٹی کے فضلاء کو کسی نہ کسی طرح نمائندگی کا اعزاز ملا۔ یوں تحریک منہاج القرآن کے اس شہر اعتکاف میں دیگر تنظیمات کے ساتھ ساتھ جامعہ کے طلبہ بالخصوص Cosmos کی بزم منہاج نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ قائد تحریک کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کے بیٹے اس کے مشن میں مدد کررہے ہیں۔ لہذا اجتماعی اعتکاف میں منہاج یونیورسٹی کے طلباء، اساتذہ اور انتظامیہ کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے۔

بیرون ممالک کے معتکفین

اس شہر اعتکاف میں حیران کن طور پر دنیا کے چھ براعظموں سے ہزاروں افراد نے اس دس روزہ اعتکاف میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی روحانی سنگت اختیار کی، بیرون ممالک سے کثیر تعداد میں معتکف شریک ہوئے۔ ان میں اسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جرمنی، ڈنمارک، فرانس، اسپین، بیلجیئم، نارتھ کوریا، ساؤتھ افریقہ، سعودی عرب، ہالینڈ، فن لینڈ، ناروے، برطانیہ، امریکہ اور اٹلی شامل ہیں۔ بیرون ممالک کے معتکفین خصوصی طور پر پاکستان اعتکاف کے لئے تشریف لائے۔ علاوہ ازیں حال ہی قائم ہونے والے (ICIS) انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف کلاسیکل اینڈ اسلامک سٹڈیز کے طلباء وطالبات نے بھی پہلی دفعہ اس اعتکاف میں شرکت کی۔ منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام چلنے والے اس ادارہ میں تمام طلباء بیرون ممالک سے ہیں۔

شہر اعتکاف کا مجموعی ماحول اور رائے عامۃ

شہر اعتکاف کے انتظامات مثالی تھے۔ اس کی انتظامیہ نے دن رات ایک کرکے اپنے معتکفین کو ہر قسم کی سہولیات مہیا کیں۔ معتکفین کی صحت کے لئے میڈیکل اور ہومیو پیتھک کی دو بڑی ڈسپنسریاں قائم کی گئیں۔ جن میں ہر وقت 24گھنٹے ایمر جنسی ایمبولینس کا انتظام تھا۔

  • سیکورٹی کے عملہ نے ہر وقت چاک و چوبند ہوکر اپنے فرائض سرانجام دیئے۔
  • طاق راتوں میں تراویح کے بعد محافل ذکرونعت کے کامیاب انعقاد نے روحانی ماحول کو گرمادیا۔
  • اعلانات کمیٹی نے بروقت اطلاعات پہنچا کر اپنا فریضہ احسن طریقہ سے سرانجام دیا۔
  • معمولات کی پابندی والی کمیٹی نے بڑی سختی سے معتکفین کو شیڈول کے مطابق حلقہ جات کی پابندی کروائی۔
  • عصر کے بعد فقہی سوال وجواب کی نشست میں جناب مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی نے سوالات کے جوابات دیئے۔
  • علاوہ ازیں دیگر انتظامی امور کو چیف کنٹرولر جناب حاجی مختار احمد ناز نے بڑے احسن طریقہ سے سرانجام دیا۔

ان تمام انتظامات کا اور آنسوؤں کی بستی، تزکیہ نفس اور توبہ کی قبولیت کی وادی کے 10روزہ مسنون اعتکاف کا اجتماعی جائزہ لینے کے بعد میرا دوست مجھ سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا کہ اگر آپ مجھے یہاں بحث و مباحثہ کرکے نہ لیکر آتے تو کیا مجھے یہ دنیا نصیب ہوتی؟

  • کیا میں ان روحانی فیوضات سے سیراب ہوتا؟
  • کیا یہ ساعتیں اور پر نور رحمتیں، بابرکت گھڑیاں مجھے میسر آتیں؟؟؟

اور پھر خود ہی ان سوالات کے جواب میں گویا ہوا۔۔۔ یقینا نہیں۔۔۔۔بس میں آپ کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے جھوٹ، دغا، فریب، دھوکہ اور دنیا کے مکرو فریب سے چھٹکارا دلاکر ایک ایسی بستی کا پتہ بتایا جس کو دیکھ کر آج بھی قرون اولیٰ کی یادتازہ ہورہی ہے۔ میرا جی چا رہا ہے کہ آپ کو تا عمر شکریہ کی نگاہوں سے دیکھتا رہوں لیکن یہ فکر بھی مجھے دامن گیر ہے کہ وہ ہزاروں لوگ جو اس بستی سے بے خبر ہیں جو اس میں دعوت کے باوجود شریک نہ ہوسکے ان کا کیا بنے گا؟ کاش جو لوگ نہیں آسکے ان کو ایک بار میری طرح یہاں آنے کا موقع مل جائے۔۔۔؟؟؟؟

Visit speeches to the I`tikaf City in high quality.
Visit Contact, Maps & Routs for the location of I`tikaf City.

Copyright © 2007, Minhaj-ul-Quran International, All Rights Reserved.
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau