فہمِ دین، تزکیہء نفس، توبہ اور آنسوؤں کی بستی   
 I`tikaf City www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184
    Home  |  Diary  |  Speeches  |  Articles  |  Album  |  Contact www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184 
www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184

 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Home
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Itikaf City
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   I`tikaf Speeches
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   I`tikaf Diary
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Itikaf Schedule
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Itikaf Booklet
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Nisab-e-Itikaf
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Ahadith
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Articles
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Documentary
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Photo Album
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Maps & Routs
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Write-a-Review
 www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184   Contact


Please donate generously
so we may improve
our services.
Our efforts
depend on you.

www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184
www.itikaf.com Jami-ul-Minhaj, Baghdad Town, Township, Lahore Minhaj-ul-Quran, 0092.42.111.140.140, 0092.42.5168184
I`tikaf City - روزے کے بیان میں : امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ
روزے کے بیان میں : امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ

روزہ بھی ارکان اسلام کا ایک رکن ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہے کہ میں ایک نیکی کے بدلے میں دس سے لے کر سات سو گنا تک بخشتا ہوں، لیکن روزہ ان نیکیوں میں بڑی خصوصیت رکھتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا يُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ. (یعنی وہ لوگ جو اپنی مرضی سے صبر کرتے ہیں، ان کو لا تعداد اجر ملتا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ صبر کرنا، آدھا ایمان کا درجہ رکھتا ہے اور روزہ آدھے صبر کی منزلت رکھتا ہے۔ روزہ دار کے منہ کی بو خدا کے نزدیک مشک و عنبر سے کہیں بہتر ہے، وہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری وجہ سے کھانا پینا اور مباشرت کو ترک کیا تو میں بھی اس کا بدلہ اس کو دوں گا۔ حدیث میں ہے کہ روزہ دار کا سونا بھی عبادت ہے، اور اس کا ہر سانس بہ منزلہ تسبیح کے ہے۔ اس کی تمام دُعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرمایا کہ جب رمضان شریف قریب آتا ہے تو بہشت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ نیک آدمیوں کے لئے حکم ہوتا ہے کہ یہ وقت تمہارا ہے اور بروں کے لیے لعنت ہوتی ہے۔

روزے کو خداوندِ عالم نے اپنے سے متعلق کہا ہے: الصَّومُ لِیْ وَاَنَا اَجْرِيْ بِه (یعنی روزہ میرے واسطے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا)۔ اگرچہ سب ہی عبادتیں خدا کے لیے ہوتی ہیں مگر روزے کو خصوصاً اپنا بتایا ہے جس طرح کعبے کو اپنا گھر ہی کہا ہے۔

روزہ خصوصاً دو وجوہ سے خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے:

پہلے یہ کہ روزے کا دارومدار ترکِ خواہشات و لذات پر ہے۔ یہ صرف روحانی حقیقتوں پر مبنی ہوتا ہے۔

دوسرے یہ کہ روزہ خواہشات نفسانی کو تباہ کرتا ہے اور خواہشات نفسانی شیطانی لشکر میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انسان کے جسم میں شیطان خون کی طرح دوڑتا ہے۔ لہٰذا بھوک کے ذریعہ اس کے زور کو کم کرو۔ (الصَّومُ جُنَّةٌ) روزہ اس کی سپر ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ بہشت کا دروازہ کھٹکھٹایا کرو۔ لوگوں نے اس کا ذریعہ دریافت کیا تو جواب دیا کہ بھوک کے ذریعے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روزہ عبادت کا ایک دروازہ ہے۔ اس کی فضیلتیں صرف اس بناء پر ہیں کہ دنیا کے تمام گناہ اور خواہشات کو روزے کی بھوک روکتی ہے۔

فرائض روزہ

روزے کے دس فرائض ہیں:

پہلا:

یہ معلوم کرو کہ چاند اُنتیس کا ہے یا تیس کا۔ اس کے لیے صرف ایک گواہ عادل کا کہنا مان لینا چاہیے۔ لیکن عید کے چاند کے لیے دو عادلین کی ضرورت ہوتی ہے۔

جو آدمی کسی کو سچا جانتا ہو، اور وہ اس سے چاند کی تصدیق کر دے تو روزہ واجب ہے۔ چاہے حاکم وقت اس کے قول کی تردید کر دے اور اگر اپنی جائے قیام سے سولہ میل دور پر چاند دیکھا گیا ہے تو روزہ فرض نہ ہو گا۔ اور اگر راستہ سولہ میل سے کم ہو گا تو روزہ واجب ہے۔

دوم:

ہر رات کو یہ سوچ کر نیت کرے کہ یہ روزہ واجب رمضان کا ہے اور واجب ہے۔ پس جو آدمی یہ یاد رکھے گا، گویا کہ وہ نیت کرتا ہے لیکن اگر اس کو شک ہے اور اسی حالت میں مشکوک ہی روزہ رمضان کی نیت کرے گا تو یہ نیت ٹھیک نہیں ہے۔ چاہے رمضان کا روزہ واجب ہی رکھتا ہو۔ اول اپنا شک دور کر لینا ضروری ہے۔ رات کو بعد سحر یہ نیت درست ہو گی۔ چاہے اس وقت تک اس کو رمضان میں یا عید میں شک ہو اور اگر آدمی کہیں اندھیرے میں اور اپنے وثوق کی بناء پر ہی نیت روزہ کرتا ہے تو اس کا روزہ ہو جائے گا۔

اور اگر رات کو سونے سے پہلے نیت کر چکا ہے اور اس کے بعد بھی کچھ کھا لے تو بھی روزہ نہیں جاتا اور اگر عورت کو یہ خیال ہو کہ حیض بند ہو جائے گا اور وہ نیت کرے اور دن میں حیض بند بھی ہو جائے تو اس کا روزہ ہو جائے گا۔

سوم:

باہری کوئی چیز جسم کے اندر نہ جانی چاہیے۔ مگر فصد کھلوانا، حجامت، سرمہ یا کان میں دوائی ڈالنا اور روئی کا پھا یا ذکر میں رکھنا کوئی نقصان کا باعث نہیں ہوتا۔

باطنی جگہوں سے پیٹ، معدہ اور مثانہ وغیرہ مراد ہے۔ اگر غیر ارادی طور سے کوئی شے ان کے اندر چلی جائے جیسے گرد و غبار، مکھی یا کلی کا پانی تو اس سے روزہ باقی رہتا ہے لیکن عمداً زیادہ دیر تک کلی نہ کرے اور غرارے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔

اگر بھول کر کچھ کھا لیا ہے تو بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر یہ نہ معلوم ہو کہ سحر کا وقت ختم ہو گیا، یا روزے کے افطار کے وقت سے پہلے کھا لے، تو روزے کی قضاء واجب ہے۔

چہارم:

بیوی کے ساتھ روزے کی حالت میں جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اگر روزہ یاد نہ رہے اور یہ عمل کر لے تو باقی رہتا ہے، یا رات کو مباشرت کر کے علی الصباح غسل کر لے تو کوئی قباحت نہیں۔

پنجم:

کسی طرح بھی بحالت روزہ منی نکالنے خواہ وہ انزال کی صورت میں یا جماع کی صورت میں ہو جائز نہیں۔

ششم:

خود بخود اگر قے ہو جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن ارادتاً کرنا منع ہے۔ بلغم، کھانسی کی وجہ سے نگل جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس کو نگل لینا منع ہے۔

روزے کی یہ سنتیں بھی ہیں:

سحری دیر کر کے کھانا، پانی یا کھجور سے افطار روزہ میں جلدی کرنا۔ بعد زوال آفتاب مسواک کرنا۔ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ تلاوت قرآن شریف زیادہ سے زیادہ کرنا۔ مسجد میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا خصوصاً رمضان کی آخری دس راتیں بہت مبارک ہیں۔ انہیں میں سے ایک شبِ قدر ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان راتوں کو عبادت زیادہ کرتے تھے۔ اہل عبادت سے بھی غفلت نہ کرے تھے۔

شب قدر رمضان کی اکیسویں، تیئیسویں، پچیسویں یا ستائیسویں راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔ زیادہ تر روایات ستائیس کے متعلق ہیں۔ افضل یہ ہی ہے کہ اس پورے عشرے میں اعتکاف کرے۔ لیکن اعتکاف کی حالت میں سوائے حوائج ضروریہ کے یا جتنی دیر وضو کرے، مسجد سے باہر نہ نکلے۔

اگر عیادت، طہارت، نماز جنازہ یا شہادت کے لیے مسجد سے باہر آئے گا تو اعتکاف نہ ٹوٹے گا۔ جب مسجد سے باہر آئے اور حاجاتِ ضروریہ سے فارغ ہو کر مسجد میں واپس ہو تو دوبارہ سے اعتکاف کی نیت کرے۔

روزے کے باطنی رموز اور مدارج

روزہ

باطنی طور سے روزہ تین مدارج پر تقسم کیا گیا ہے:

اول۔ عوام الناس کا روزہ رکھنا

دوم۔ خواص کے لیے

سوم۔ مخصوص بندگانِ خدا کا روزہ رکھنا

تفصیل:

عوام کے لیے روزے میں صرف یہ تخصیص ہے کہ وہ کھانے پینے اور جماع کرنے سے پرہیز کریں۔ یہ سب سے نیچا رتبہ ہے۔ لیکن مخصوص ترین بندوں کا روزہ بلند ترین مراتب رکھتا ہے۔ وہ لوگ اپنے دل کو بجز ذات خداوندی کسی طرف ملقنت نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں اگرچہ دنیاوی مقاصد کو سوچنا یا تدبیر کرنا اچھا ہے۔ مخصوص ترین روزہ اس سے بھی ٹوٹ جاتا ہے بعض علماء اس کے قائل ہیں کہ اگر روزے کی حالت میں افطار کے وقت کے سامان کی تیاری کرے تو بھی روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ چونکہ رزق اس نے اپنے ذمہ لیا ہے اور اس تیاری میں اس کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن یہ مراتب صرف انبیاء اور صدیقین کو ہی حاصل ہیں۔

دوسری قسم جو خواص کی بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عوام الناس کی خصوصیات کے علاوہ دنیوی ناشائستہ ہنگاموں سے بھی بچا رہے۔ اس روزے کی تکمیل کے لیے چھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اول:

یہ کہ روزے میں اس طرف نگاہ نہ کرے جو شہوت کا باعث ہو، یا وہ چیزیں جو خدا کی یاد میں خلل انداز ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ تیر بھی شیطان کے زہر آلود تیروں میں سے ایک ہے جو آدمی ان سے پرہیز کرتا ہے اس ے دل میں خلوص پیدا ہوتا ہے اور وہ اس میں ایک کیف و سرور حاصل کرتا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق پانچ چیزوں سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ دروغ، غیبت، نکتہ چینی، جھوٹی قسمیں، کسی پر شہوت و خواہش کی نظر ڈالنا۔

دوم:

یا وہ گوئی سے بچنا اور خدا کی عبادت و تلاوت قرآن مجید کرنا۔ یکبار باتوں سے پرہیز کرنا بعض علماء کے نزدیک یک غیبت اور جھوٹ بولنا بھی عوام الناس کے روزے کو باطل کر دیتا ہے۔

حدیث میں وارد ہوا ہے کہ زمانہ نبوت میں ہی دو عورتوں نے روزہ رکھا، اور پیاس کی زیادتی کی وجہ سے قریب مرگ ہو گئیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روزہ کھولنے کی اجازت مانگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالہ دیا کہ اس میں قے کر دیں تو دونوں کے منہ سے خون کے ٹکڑے نکلے، تو حکم ہوا کہ دونوں نے حلال روزی سے روزے رکھے لیکن کسی کی غیبت کرنے نے ان کا روزہ توڑ دیا اور یہ خون کے ٹکڑے ان لوگوں کا گوشت ہے جو انہوں نے کھایا ہے۔

سوم:

بے ہودہ باتوں کا سننا بھی ناجائز ہے۔ اس لئے کہ جو عمل خود کرنا اچھا نہیں اس کو دیکھنا اور سننا بھی اچھا نہیں۔ وہ دونوں برابر کے ماخوذ ہیں۔

چہارم:

جسم کے تمام اعضاء کو حرکاتِ ناشائستہ سے بچائے، جو آدمی روزے کی حالت میں ایسا کرتا ہے وہ ایسے بیمار کی طرح ہے جو زہر کھا لیتا ہے اور میووں کے استعمال سے پرہیز کرتا ہے، اسی طرح گناہ بھی زہر ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے بھی ہیں جن کو روزے میں سوائے بھوک اور پیاس کے کوئی ثواب نہیں ملتا۔

پنجم:

روزے کے افطار کے وقت ناجائز یا شنیہہ چیزوں کا استعمال نہ کرے۔ اگر حلال ہی ہو تو بھی اس وقت زیادہ نہ کھانا چاہیے کیونکہ ایک ہی وقت میں دن و رات کی مقدار کھا جانا، نفس کشی کے خلاف ہے اور روزے کا مقصد نفس کو مارنا ہے۔ سنت تو یہ ہے کہ دن کو زیادہ نہ سوئے تاکہ بھوک اور پیاس کے اثرات سے آشنا ہو سکے۔ شام کو تھوڑا بہت کھا کر سو رہے تاکہ تہجد کے وقت اٹھ سکے۔ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ بھرا ہوا معدہ خدا کے نزیک ایک بھرے ہوئے برتن سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

ششم:

روزہ دار افطار کے بعد بھی یہ دعا کرتا رہے کہ روزہ قبول ہو جائے۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے عید کے دن کچھ لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا جو کھیل میں مشغول تھے، تو آپ رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ خدا وند عالم نے رمضان کو عبادت کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس میں بعض لوگ تو پورے اترتے ہیں اور بعض پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن تم لوگوں پر تعجب ہے کہ تم ہنس رہے ہو! اگر تم لوگوں کی نظروں سے پردے ہٹا دیئے جائیں تو تم میں سے جن لوگوں کی عبادات مقبول بارگاہ ہو گئی ہیں وہ مسرور ہوں گے اور جن کی نہیں ہوئیں وہ روئیں گے۔ لیکن اس لہو و لعب میں کوئی مشغول نہ ہو گا۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ روزہ صرف کھانے پینے سے پرہیز کرنے ہی کو سمجھتے ہیں ان کی ایک ہیجانی کیفیت ہوتی ہے۔

اصل روزہ دار وہ ہے جو روزے میں فرشتوں کی سیرت بنائے، چونکہ فرشتے تمام خواہشات دنیوی سے مبرا ہیں اور یہ تمام خواہشات بالکل چارپاؤں کی سی ہیں۔ لہٰذا خواہشات رکھنے والے روزہ دار چاپاؤں کی طرح ہیں اور جو لوگ خواہشات کو اپنا تابع بنا لیتے ہیں وہ فرشتوں کے ہمسر ہیں۔ وہ لوگ روحانی طور پر فرشتوں کے قریب ہوتے ہیں۔ جسمانی طور پر نہیں۔ بالکل اسی طرح اس صفت کے لوگ خدا کے نزدیک ہوتے ہیں۔

جو آدمی کھانے پینے کے سامان میں مشغول رہتا ہے اور افطار کے وقت پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتا ہے اس کی وجہ سے شہوی خواہشات بھی زیادہ ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا ایسی خواہشات میں روزے کی اصل حقیقت اور روحانی لذت حاصل نہیں ہو سکتی۔

قضا، کفارہ، امساک و فدیہ

قضا:

واجب روزہ چھوڑ دینے سے قضا اور کفارہ واجب ہوتا ہے۔ اس کفارے اور قضا کی مختلف صورتیں ہیں۔ جن لوگوں پر روزہ واجب ہے وہ (مکلف) کہلاتے ہیں۔ اگر وہ بغیر کسی عذر کے روزہ چھوڑ دیں، اس پر قضا واجب ہے۔ اسی طرح بیمار یا حالت حیض میں روزے کی قضا واجب ہے۔ دیوانگی یا بلوغیت سے پہلے قضا نہیں ہوتی۔

کفارہ:

  1. دو ماہ تک روزے رکھے یا
  2. لونڈی یا غلام آزاد کرے یا
  3. ساٹھ مد گیہوں کسی غریب کو صدقہ کرے۔ اس کی مقدار آج کل تقریباً تیس سیر کے برابر ہوتی ہے۔

امساک:

امساک کے اصل معنی ہیں دن میں فاقہ کے ساتھ برائیوں سے پرہیز کرنا۔ اگر بغیر کسی عذر کے دن میں روزہ کھول لیا جائے یا کسی عذر کے بغیر روزہ نہ رکھا جائے تو امساک واجب ہوتا ہے۔ لیکن اگر عورت دن میں کسی وقت حیض سے فارغ ہو جائے یا مسافروں میں کہیں قیام کر لے یا بیماروں میں صحت یاب ہو جائے تو امساک واجب نہیں ہوتا۔

اگر صرف کسی ایک آدمی نے کسی سے چاند نظر آنے کی شہادت دے دی اور اس کے کہنے کی بناء پر اس آدمی نے روزہ توڑ دیا ہے تو اس پر روزہ واجب ہو گا اور وہ باقی تمام دن مثل دوسرے روزہ داروں کے رہے۔

اسی طرح اگر روزے افطار سے پہلے اپنے جائے مقام یا کسی شہر میں پہنچ کر قیام کرے تو بھی وقت افطار سے پہلے افطار نہ کرے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اگر مسافر اتنی طاقت رکھتا ہے کہ عالم مسافرت میں روزہ رکھ سکے تو اس کے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے، بہ نسبت نہ رکھنے کے۔

فدیہ:

ایک مد اناج کسی غریب کو دینا۔

دودھ پلانے والی یا حاملہ عورت پر واجب ہے لیکن روزے کی قضا بھی ضروری ہے۔ جو عورت اپنے بچے کی موت کے ڈر سے روزہ قبل از وقت افطار کر لے اس پر فدیہ نہیں ہوتا، جو آدمی اپنی ہلاکت یا کوئی بوڑھا اپنے ضعف کے باعث روزہ نہ رکھ سکے تو اس پر بجائے روزے کی قضا کے فدیہ واجب ہے۔ جو آدمی قضا روزے دوسرا رمضان آنے سے پہلے نہ رکھے اس پر فدیہ اور روزوں کی قضا دونوں واجب ہیں۔

ثواب روزۂ سنت:

سال کے تمام متبرک دنوں میں روزے رکھنا سنت ہے۔ جیسے عرفہ، عاشورہ اور ذی الحجہ سے نو دن پہلے۔ شعبان سے دس دن پہلے۔ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ رمضان کے واجب روزوں کے بعد محرم میں روزے رکھنا سب سے افضل ہیں اور پورے محرم کے روزے رکھنا سنت قرار دیئے گئے ہیں۔ خصوصاً پہلے عشرۂ محرم میں روزے رکھنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔ حدیث میں ہے کہ محرم میں ایک روزہ رکھنا کسی دوسرے مہینے کے تیس روزوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اسی طرح رمضان کا ایک روزہ محرم کے تیس روزوں سے زیادہ افضل ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو آدمی محرم کے جمعرات جمعہ اور ہفتے کو روزہ رکھتا ہے اسکو سات سو برس کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ یہ بھی حدیث میں ہے کہ ماہ ذالحجہ کے مہینے کے پہلے عشرے سے زیادہ خداوند عالم کو کوئی دوسرا مہینہ عزیز نہیں۔ چونکہ یہ حج کے دن ہیں اس عشرے میں ایک روزہ ایک سال کے روزوں کا ثواب رکھتا ہے۔ اسی طرح ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کیا جہاد سے بھی زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، لیکن اس آدمی کو جہاد سے زیادہ ثواب ملے گا جس کا گھوڑا مارا گیا ہو۔

بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے رجب کے پورے مہینے میں روزے رکھنا مکروہ قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ روزہ کا تو اثر رمضان کے مقابل ہو جائے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ شعبان کی پندرہ کے بعد سے رمضان کے چاند تک کوئی روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ نیز شعبان کے آخر میں رمضان کے استقبال کے خیال سے روزہ رکھنا بھی مکروہ ہے لیکن علاوہ اس کی دوسری نیت سے رکھنے میں کوئی قیامت نہیں۔

اسی طرح ہر ماہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنا افضل ہے۔ ان دنوں میں چاند پورا ہوتا ہے اور ان دنوں کو ایام بیض کہا جاتا ہے۔ سال میں ہفتہ، اتوار، جمعرات اور جمعہ کے روزہ رکھنا چاہیے۔ سال میں پانچ تاریخوں میں روزے نہ رکھنا اچھا ہے۔ ذی الحجہ کی گیارہ، بارہ اور تیرہ (ایام تشریق) عید الفطر، عید الضحیٰ لیکن ان سنت روزوں میں اگر کوئی آدمی روزہ افطار کر دے تو اس کو منع نہیں کرنا چاہیے، یہ مکروہ ہے۔

صوم داؤد کے مطابق ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزہ رکھے۔ اگر تواتر کے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ عبداﷲ ابن عمر بن عاص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روزہ رکھنے کا بہتر طریقہ دریافت کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صومِ داؤدی کا طریقہ، پھر دریافت کیا کہ اس سے بہتر طریقہ اور بھی ہو سکتا ہے؟ تو فرمایا آپ نے کہ اس سے افضل کوئی طریقہ نہیں ہے۔

اگر اس طرح روزے نہ رکھ سکے تو ہر جمعرات اور اتوار کو روزہ رکھے۔ روزے کا اصل مقصد صرف نفس کشی ہے اور صفائی دل، جب آدمی اس رتبے کو پہنچ جائے تو اپنے دل پر زیادہ سے زیادہ قابو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ کبھی روزہ رہے اور کبھی افطار کرے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کبھی اس طرح روزہ رکھتے تھے کہ لوگوں کو ہوتا کہ اب کبھی افطار نہ کریں گے اور کبھی یہ بھی ہوتا کہ اب کبھی روزہ نہ رکھیں گے۔ آپ کے روزہ رکھنے کی کوئی متعین مدت یا وقت نہ تھا۔ بعض علماء نے ایام تشریق اور عیدین کے علاوہ روزوں کی افطار کو مکروہ قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ روزے کی عادت نہ رہنے سے دل گناہوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔

Visit speeches to the I`tikaf City in high quality.
Visit Contact, Maps & Routs for the location of I`tikaf City.

Copyright © 2007, Minhaj-ul-Quran International, All Rights Reserved.
Web Developed By: Minhaj Internet Bureau