خدا کو کیوں مانیں؟ اور مذہب کو کیوں اپنائیں؟ [نشست اول]




خطاب نمبر: Ca-12
تقریب: اعتکاف 2024
مقام: شہراعتکاف, لاہور
مورخہ: 01 اپریل 2024
کیٹگری: دین و مذہب
تفصیل:
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے شہرِ اعتکاف کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہرِ اعتکاف میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے تشریف لانے والے جملہ معتکفین کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ خدا ہر جگہ موجود ہے اس دعوے کا جواب قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ ساری کائنات اس کے احاطہ میں ہے، شرق تا غرب سب کچھ اسی کی دسترس میں ہے، ساری کہکشائیں جن کی تعداد اربوں میں ہے یہ نظام شمسی اور یہ سارا سولر سسٹم ایک چھوٹی سی چیز ہے، اللہ ان سب سے بڑا ہے۔ ایمان بالغیب ہی وہ صفت ہے جس سے ایمان کا راستہ نکلتا ہے، غیب عربی زبان کا لفظ ہے، غیب اس چیز کو کہتے ہیں جو موجود تو ہو مگر مشہود نہ ہو یعنی دکھائی نہ دے سکے، جس چیز کو دیکھا نہ جا سکے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ موجود نہیں ہے، بہت ساری چیزیں ہیں جو موجود تو ہیں مگر ہماری آنکھ انھیں دیکھ نہیں سکتی۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنا تعلق علم اور کتاب سے جوڑیں، علم میں پختگی کے لیے خوب محنت کریں اور مطالعہ کا شوق پیدا کریں۔ قرآن مجید پر غور و فکر کریں اور تحقیقی موازنہ کی طرف آئیں۔ قرآن میں 856 آیات ایسی ہیں جن میں اللہ نے علم کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا ہے، جب کہ ایک ہزار کے قریب آیات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ سائنسی حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں پونے دو ہزار آیات ایسی ہیں جن میں علم اور سائنس کی بات کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نے اپنے ماننے والوں کو بار بار دعوت دی کہ غور کرو، تدبر سے کام لو، تحقیق سے کام لو علم سے تعلق جوڑو، جو کتاب اپنے ماننے والوں کو غوروفکر کی دعوت دے کیا وہ کتاب غلط ہو سکتی ہے؟ اسی لیے قران کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر کے اہل زبان مل کر اس جیسی کوئی ایک آیت یا سورۃ لے آؤ؟۔ کہا جاتا ہے کہ سائنس ایجادات کرتی ہے اور پھر بعد میں انھیں قرآن کے اندر سے ڈھونڈ نکالا جاتا ہے کہ یہ سائنسی حقیقت قرآن میں موجود ہے۔ سوال کرنے والے کہتے ہیں اگر یہ قرآن میں موجود تھا تو مسلمانوں یہ ایجادات خود کیوں نہیں کیں؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ کسی اور مذہب نے اپنی مذہبی کتاب سے یہ حقائق کیوں نہ ڈھونڈ نکالے؟ قرآن میں یہ حقائق موجود ہیں تو نکالے گئے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان حقائق تک رسائی کے لیے دونوں طرف کا پختہ علم ہونا شرط اول ہے، جوں جوں سائنس کائنات کے پردے اٹھاتی چلی جائے گی وہ قرآن کے دعوؤں اور معارف و معانی کی توثیق کرتی چلی جائے گی کیونکہ یہ سب حقائق 14 سو سال قبل قرآن نے بیان کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نے 14 سو سال قبل جو حقائق بیان کیے انھیں آج کے دن تک کوئی جھٹلا نہیں سکا اور قرآن نے جو چیلنج کیے وہ چیلنج بھی آج کے دن تک کوئی قبول نہیں کر سکا، جو کتاب چیلنج کرے، غوروفکر کی دعوت دے ایسی کتاب جھوٹ ہو سکتی ہے؟۔ جو ہر جگہ موجود ہو اس کا کوئی ایک پتہ نہیں ہوتا، جس کا ایک پتہ ہوتا ہے وہ ہر جگہ موجود نہیں ہوتا، اللہ ان جگہوں پر بھی ہے جس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر زمین و آسمان میں موجود نشانیوں پر غور کرو گے تو ان میں سے ہر نشانی اللہ کی ذات کا پتہ دے گی، اللہ ہر چیز پر محیط ہے اس لیے وہ نظر نہیں آتا، نظر کی ایک حد ہے، نظر کی استعداد حواس خمسہ کی مرہون منت ہے اور ان کے دائرہ کار کی ایک حد ہے جب کہ اللہ لا محدود اور بے حد ہے، حد والے حواس بے حد کو نہیں دیکھ سکتے اسی لئے فرمایا گیا غیب پر ایمان لاؤ۔

انہوں نے کہا کہ جب یقین کمزور ہوجاتا ہے تو پھر بعض ذہنوں میں یہ خیال جنم لیتا ہے کہ اگر خدا ہے تو وہ کہاں ہے اور اس کا پتہ کیا ہے؟۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ قرآن مجید کی آیات پر غور و تدبر کریں اور اہل عقل و دانش ان سے ہدایت و راہنمائی حاصل کریں۔ مہنگائی اور گرانی کے اس دور میں اپنے کاروبار سے الگ ہو کر اللہ کی رضا کے لیے دس دن خود کو اس تربیتی ورکشاپ کے لیے مخصوص کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔ جو چیزیں حواس خمسہ کے ذریعہ محسوس ہوں ان کو انسان جان لیتا ہے مگر جو چیزیں حواس خمسہ سے ماورا ہوں انہیں سائنسدان اور سائنس کچھ نشانیوں سے جانتی اور پہچانتی ہے، جیسے پھول کو تو ہم دیکھ سکتے ہیں مگر خوشبو کو نہیں دیکھ سکتے۔ مگر اس کے وجود سے انکار بھی نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سائنسی ایجادات اور فتوحات کی عمر گزشتہ دو صدیاں ہیں، اس سے پہلے تو سائنس خود ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی۔ قرآن نے 14 سو سال قبل اعلان کر دیا تھا کہ وقت آئے گا تو تم جان لو گے کہ اللہ نے اس کتاب میں جو بیان کر دیا وہ حق ہے۔ وقت مقررہ پر تم یہ سب جان لو گے اور ساری گتھیاں سلجھتی جائیں گی۔